کراچی میں ایک ماہ کے دوران ڈکیتی پر مزاحمت کے دوران 10 شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 25 زخمی ہوئے ہیں۔
سیٹیزن پولس لائنزنگ کمیٹی (سی پی ایل سی) کی رپورٹ کے مطابق فروری میں کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی 7 ہزار کے قریب وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
فروری کے دوران کراچی میں موبائل فون چھینے کی 2255 واردتیں رپورٹ ہوئیں، واضح رہے کہ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو کہ رپورٹ ہوئے، جن کی کہیں کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی وہ الگ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فروری میں 4380 افراد اپنی موٹر سائیکلوں سے محروم ہوئے، موٹر سائیکل چوری ہونے کی 4054 وارداتیں ریکارڈ ہوئیں جب کہ اسلحے کے زور پر 326 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔
پولیس کو اسٹریٹ کرائمز کے حوالے سے ہدایات
موٹر سائیکلوں کی چوری اور چھیننے کی وارداتوں کا یومیہ اوسط نکالا جائے تو ہر روز کراچی والے 146 موٹر سائیکلوں سے محروم ہوتے ہیں جب کہ ہے گھنٹے یہ اوسطاً 6 موٹر سائیکلیں بنتی ہیں۔
اسی طرح شہر میں 178 گاڑیاں چوری ہوئیں ، جن میں سے کار چوری کی 163 جب کہ اسلحہ کے زور پر 15 گاڑیاں چھیننے کی واررداتیں رپورٹ ہوئیں۔
فروری کے مہینے میں بھی ڈاکوؤں نے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھا، ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 10 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ ڈکیتی کے دوران 25 سے زائد شہریوں کو زخمی کیا گیا۔
from Samaa - Latest News https://ift.tt/XlWSFAT
Post a Comment Blogger Facebook