لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نذیرچوہان سمیت 8 افراد نے ضمانت کےلیے رجوع کرلیا۔
نذیر چوہان سمیت دیگر افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے۔
بدھ کو نذیرچوہان نے اپنے وکیل سردار اکبر ڈوگر کی وساطت سے درخواست ضمانت بعدازگرفتاری دائر کی۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ تھانہ چوہنگ پولیس نے جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کےلیے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں۔
یہ بھی بتایا گیا کہ عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا بھی مسترد کردی تھی۔
عدالت سے استدعا کی گئی کہ بعد ازگرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کی جائے۔
پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعت ق لیگ کی پنجاب میں حکومت بننے کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنماء نذیر احمد چوہان کو پی ٹی آئی رہنماء پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، انہیں 2 اگست بروز منگل لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
پولیس نے مسلم لیگ ن کے رہنماء نذیر چوہان سمیت دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی، پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزمان کے پاس بھاری مقدار میں اسلحہ ہے، جو ریکور کرنا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنماء کے وکیل نے کہا کہ نذیر چوہان پر جوہر ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج ہے، یہ واقعہ الیکشن کے دوران پیش آیا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے تفتیش کی، انہوں نے ہمیں کلین چٹ دی، ایس ایس پی کے مطابق مقدمے میں گرفتاری درکار نہیں تھی، نذیر چوہان کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے نذیر چوہان کو بدنیتی کی بنیاد پر گرفتار کیا، مقدمے کو عدم شوائد کی بنیاد پر خارج کیا جائے۔
مقامی عدالت نے پولیس کی جانب سے مسلم لیگ ن کے رہنماء نذیر چوہان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں ساتھیوں سمیت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنماء نذیر احمد چوہان نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف قمر جاوید باجوہ سے کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتا ہوں، صاف شفاف انکوائری کمیشن بنایا جائے وہ تحقیقات کرے، میرے ساتھ تعاون کیا جائے۔
from Samaa - Latest News https://ift.tt/QbISePL
Post a Comment Blogger Facebook